بازی گر اور مینا کماری‎

خصوصی فیچرز

نوجوان شکیل عادل زادہ،عظیم اداکارہ مینا کماری کی زندگی میں ایک جانب سے داخل ہوتے ہیں چند دن گزرتے ہیں،کچھ مکالمات بولتے ہیں اوردوسری جانب سے نکل جاتے ہیں۔ اُس وقت شکیل عادل زادہ کون ہیں اور مینا کماری کون،ایک سننے کی کہانی ہے۔میناکماری ہندوستانی فلمی تاریخ کی ناقابلِ فراموش ہیروئن رہی ہے۔ بے مثال اداکارانہ جوہر کے ساتھ جذباتی اداکاری میں وہ ملکہ رکھتی تھی۔ ایک جانب وہ پردئہ سیمیں کی عظیم فن کارہ ٹھیری جو1970کی دہائی تک گلیمر کی چکاچوند میں دمکتی رہی، دوسری جانب اُس کی زندگی پے درپے حادثات کی وجہ سے ایک زمانے کے لیے ٹریجیڈی کی علامت بنی رہی۔اُس کی فلم ’’صاحب ،بی بی اور غلام‘‘میں اُس کی روزوشب کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ یہ فلم بعض ناقدین ہندوستانی سینما کی عظیم ترین فلم سمجھتے ہیں۔

اس کی کہانی اور مینا کماری کی زندگی کی داستان متوازی سفرکرتی ہیں۔ماہ جبین بانو کے نام سے جنم لینے والی بچی کی کہانی درد انگیز ہے۔اُس کی پیدایش کے وقت اُس کے والد علی بخش کے پاس ڈاکٹر گاڈے کو دینے کے لیے معاوضہ بھی نہ تھا ، وہ اُسے چندگھنٹوں کے لیے یتیم خانے چھوڑ گیا۔ جب بچی سات بر س کی ہوئی تو باپ کی خواہش پر اُسے مینا کے نام سے چائلڈ ایکٹر کے طور پر ایک فلم میں کردار دیا گیا۔ بچی کی خواہش تھی کہ اُسے عام بچوں کی طرح اسکول بھیجا جائے جب کہ اُسے زبردستی فلموں میں کام کی مزدوری پرلگا دیا گیا۔ یہیں سے اس کی نفسیاتی تخریب کا آغاز ہوا۔ وہ اپنی دکھی زندگی کے باعث المیہ اداکاری میں زندگی پھونکنے پرمعروف ہوئی۔ ساری زندگی وہ محبت کی متلاشی رہی۔یہی پیاس اُسے اپنے وقت کے اہم فلم ڈائریکٹر کمال امروہوی کے نزدیک لے آئی۔کمال امروہوی پہلے سے شادی شدہ تھے۔مینا جو اَب تک مینا کماری کے نام سے فلمی دنیا میں مشہور ہوچکی تھی، جلد ہی کمال امروہوی کی بیوی بن گئی۔ شادی کے بعدکمال امروہوی نے مینا کو فیصلہ سنا دیاکہ چوں کہ مینا سیّد نہیں اس لیے وہ اس سے کوئی اولاد پیدا نہیں کریں گے۔ اس اعلان نے مینا کو ایک جذباتی دھچکے سے دوچار کیا۔یہ وہی مینا ہے جو بعد میں ’’پاکیزہ‘‘ میں اَمرہوجاتی ہے۔یہ وہی مینا ہے جو کمال امروہوی سے علیحدگی کے بعد کثرت ِمَے نوشی سے انتالیس برس کی عمر میں جگر کے عارضے میں مرجاتی ہے۔ابھی اُس کی موت بہت دور ہے جب چند مہمان اُس کے باندرا والے گھر میں آکر ٹھیرتے ہیں۔ ان مہمانوں میں ایک بائیس سالہ لڑکا بھی ہے، جو بہت جلد مینا کے قریب ہوجاتا ہے۔ وہ اسے اپنا مونس وغم خوار جانتی ہے اور اُس کے ساتھ رات رات بھر دل کی باتیں کرتی رہتی ہے۔ وہ لڑکا بھی جذباتی طور پر مینا کے بہت قریب ہوجاتا ہے۔اُس سے مینا فلمی دنیا کے مصنوعی پن اورزندگی کی بے معنویت پر باتیں کرتی ہے۔ وہ ضد کرتی ہے کہ لڑکا وہیں بمبئی ٹھیرجائے۔لڑکا مجبور ہے ۔سو واپس چلا آتا ہے۔زندگی کی فلم کی ریل یہاں تھمتی ہے۔

زندگی بھی عجیب معاملہ رکھتی ہے۔ اُس لڑکے سے ملاقات کے دو برس بعد مینا کماری شہرئہ آفاق ڈائریکٹر ،ایکٹرگروودت کی شاہ کار فلم ’’صاحب بی بی اور غلام‘‘ میں پرانی وضع کی ڈھیتے جاگیرداری نوابی تہذیب کی علامت ایک خاندان میں چھوٹی بہو کے روپ میں سامنے آتی ہے۔ شوہر ایک عیاش شخص ہے، شراب اور طوائفوں کا رسیا ۔ چھوٹی بہو ایک شریف اور خاندانی عورت ہے۔ شوہر کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے وہ شراب پینا شروع کردیتی ہے۔ معاملہ اعتدال سے اُدھر نکل جاتا ہے۔ اسی دوران اُس عالی شان بھری پرُی حویلی میں ایک نوجوان آکر ٹھیرتا ہے۔ وہ موہنی سیندور فیکٹری میں ملازم ہے۔ جلد ہی وہ چھوٹی بہو کا اعتماد حاصل کرلیتا ہے۔ چھوٹی بہو اُس سے حالِ دل بیان کرتی ہے۔ یوں اُس کی شکل میں اُسے ایک چارہ ساز میسر آجاتا ہے۔فلم میںاُس لڑکے کا کردار گرودت نے خودادا کیا ۔

ٹوٹتی بکھرتی اُداس وغم زدہ میناکماری کی حقیقی زندگی میں یہ کردار شکیل نامی ایک گم نام لڑکے نے ادا کیا۔ وہ لڑکا بعد میں شکیل عادل زادہ کے نام سے معروف ہوا۔ یہ وہی شکیل عادل زادہ ہیں جو بعد ازاں ’’سب رنگ‘‘ رسالہ نکالتے ہیں اور اسے بامِ عروج تک لے جاتے ہیں۔’’امبربیل‘‘، ’’اِنکا‘‘،’’اقابلا‘‘، ’’بازی گر‘‘ نامی سلسلے وار کہانیاں شروع کرتے ہیں اور ایک زمانے کو اپنا گرویدہ کر لیتے ہیں، اُردو کے اساتذہ کے استاد ٹھیرتے ہیں اور بین الاقوامی ادب کے اعلیٰ ترین ادبی شاہ پاروں کو اُردو قارئین کی خواب گاہوں تک لے آتے ہیں۔

ایک چھت تلے اہم ترین ادیبوں اور مترجموں کو اکٹھا کرکے ’’سب رنگ‘‘ کی اشاعت1976 میں قریباً پونے دو لاکھ تک لے جاتے ہیں جو ایک ریکارڈ تھا۔ حتمی طورپراس کے قارئین کی تعداد سترہ لاکھ تک چلی گئی، دس افراد فی ڈائجسٹ، ملکی آبادی سات کروڑ دولاکھ سترہزار (بہ حوالہ مردم شماری) شرح خواندگی 26.20% (خواندہ آبادی ایک کروڑچوراسی لاکھ۔اقوامِ متحدہ اعداد)۔گویا پاکستان کی خواندہ آبادی کا ہر دسواں شخص سب رنگ پڑھ رہا تھا۔ یہ ایک انقلاب تھا۔
میرے،اُن سے عقیدت اور محبت بھرے شب وروزمیں اُنھوں نے بے شمار واقعات گھونٹ گھونٹ سنائے، کئی ذاتی حکایتیں بیان کیں اور اس تعلق کی ریشمی چادر میں اپنی داستانِ حیات کے کئی لعل،عقیق ،زمرد، سچے موتی جڑے۔ انھی قیمتی پتھروں سے ایک مالا تیار ہوتی ہے۔ سو پہلے ان کی حیات ِ جاوداں کا رنگا رنگ ہار، بعد میں ذاتی مشاہدات وتاثرات کی سب رنگ ریشمی چادر۔
ایک مرتبہ امجد اسلام امجد صاحب نے شکیل صاحب کو ایک قہقہہ آورلطیفہ سنانا شروع کیا۔ اُس لطیفے کی ظرافت اور برجستگی کے باعث لوگ اُسے سن کر لوٹ پوٹ ہوجاتے تھے۔ جیسے جیسے لطیفہ آگے بڑھتا رہا شکیل صاحب سنجیدگی اور انہماک سے اُسے سنتے رہے۔ لطیفہ ختم ہوا تو امجد صاحب نروس ہوکر دل تھامے شکیل صاحب کودیکھنے لگے۔ شکیل صاحب نے کچھ دیر توقف کیا، ہلکی مسکراہٹ اُن کے چہرے پر اُبھرآئی اور وہ بولے’’کیا کہنے!‘‘اس’’ کیا کہنے ‘‘میںاُن کی شایستگی اورخوداختیاری کے ساتھ پوری شخصیت موجود ہے۔
آشفتہ سر، ہمہ صفت،فلک پیما، حسن پرست، قادر الکلام اور غیر منقسم ہندوستان کے شہرمرادآباد میں پیدا ہونے والے اُردو ادب کے قد آور اوررجحان ساز ادیب شکیل عادل زادہ کے بارے میں پانچ دل چسپ حقائق بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

شکیل عادل زادہ حافظ ِ قرآن ہیں،ان کا تعلق پنجابی سوداگران سے ہے، وہ اردو میں کم زور ہونے کی وجہ سے انٹر میں پہلی کوشش میں کام یاب نہ ہوپائے تھے ،شکیل عادل زادہ اُن کا پیدایشی نام نہیں بل کہ معروف شاعرجون ایلیا نے تجویز کیا تھااوروہ شکیلہ جمال کے قلمی نسوانی نام سے کئی نام ورادیبوں کوخطوط کے ذریعے رجھاتے رہے۔

ڈیفنس کراچی میں نفاست سے ترشی ہوئی باڑھ اور پھل پھول کے پودوں کے لان والے دیدہ زیب بنگلے میں رہنے والے شکیل عادل زادہ اپنے قمیص پتلون والے لباس اور انداز وبرخواست کی وجہ سے مغرب پلٹ نستعلیق پروفیسر نظر آتے ہیں۔ یہ تاثر تب تک قائم رہتا ہے جب تک وہ اپنے جیب سے بیڑی نہیں نکال لیتے۔ پہلی مرتبہ جب میں نے اُن کی بیڑی سُلگانے کے لیے ماچس کی تیلی جلا کر اُنھیں آگ پیش کی تو وہ اپنے ہاتھ کو پیشانی تک لے گئے اور بولے ’’آداب!‘‘ میں اُن کی وضع داری سے متاثر ہوا۔ تب وہ بیسویں صدی کے اوائل کے لکھنوی ادیب نظرآرہے تھے۔

سن 1960تھا، دنیا بھر میں معاشرتی، ثقافتی اور ادبی تحریکیں نئے رنگ میں شروع ہورہی تھیں۔ اس دہائی کو ’طلائی دہائیـ‘ کا نام دیا جانا تھا، مغرب میں ہپی اور انسانی آزادی کی تحریکیں زورپکڑرہی تھیں، فلمی دنیا نئے زاویوں سے روشناس ہورہی تھی اور پاکستان میں نواب محسن الملک کے نواسے ،شعلہ بار،مقرر کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل حسین ناصر کو شاہی قلعے میں ایذائیں دی جارہی تھیں۔ وہ پسے طبقات کا بے لوث رہ نما بن کر اپنے نوابی چوغ کو اُتار پھینک چکا تھا۔ اُسے نومبر1960میں شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا۔عوامی غیظ وغضب سے بچنے کے لیے اُس کی لاش کو قبر سے نکال کر کہیں اور دفنا دیا گیا تھا۔ غرضیکہ پورے کرّے پر ایک جوش و ولولے کا عالم تھا۔ ایسے میں تین افراد پر مشتمل ایک چھوٹا سا قافلہ پاکستان سے ہندوستان کی جانب رواں دواں تھا۔اُس قافلے میں رئیس صاحب کی بیگم، باجی امی،بیٹی خضران(ببیا) اور اُن کے نگران کی حیثیت سے شکیل تھے۔ وہ ابھیبائیس برس اور چند ماہ کے تھے۔مراد آباد سے ہوکر امروہے اور پھر بمبئی جانا تھا۔ بمبئی میں ان سب کا قیام رئیس صاحب کے چچا زاد کمال امروہوی کے ہاں تھا۔ کمال امروہوی ہندوستانی سینما کی معروف شخصیت، فلم ساز اور ہدایت کار تھے۔ سکندر،پکاراوراُس وقت دھوم مچانے والی فلم’’محل‘‘کی کام یابی کے بعد اُن کا شمار چوٹی کی فلمی شخصیات میں ہوتا تھا۔ کمال صاحب اپنی پہلی بیوی فردوس، بچوں،رخسار، شان دار اور تاج دار سے ہٹ کر دوسری بیوی، شہرئہ آفاق اداکارہ مینا کماری کے ساتھ باندرہ میں اوسط درجے کی کوٹھی کی بالائی منزل میں رہتے تھے۔

شکیل بھائی گھونٹ گھونٹ داستان سنا رہے تھے۔ وہ بات تو مجھ سے کررہے تھے، دیکھ کہیں اور رہے تھے۔ان آنکھوں میں وہی چمک تھی جو بیس بائیس برس کے لڑکے کی نظروں میں ہوتی ہے۔

گھر میں مکمل خاموشی تھی،ان کی بیڑی بھی جل کر راکھ ہوچکی تھی اور کمرے میں اُن کی دھیمی آواز ہلکی گونج پیدا کررہی تھی۔ ہم اپنی ملاقاتوں میں کمرے کی بتیاں بجھا کر صرف فلور لیمپ جلے رہنے دیتے ہیں۔یوں ایک پرسکون اور خواب آور ماحول میں یک سوئی آجاتی ہے۔ میںانھیں محبت سے دیکھتا ہوں اور وہ متانت سے بولتے ہیں، ماضی کی باتیں،آج کے حالات،مستقبل کے ارادے، ادب کی باتیں، ادیبوں کے قصے، زنبیلِ حیات سے واقعات اور باتیں یوں نکلتی چلی آتی ہیں جیسے جادوگر کی ٹوپی سے کبوتر ،توتے۔

’’مینا جی دل کش شکل و صورت اور نکھری سُرمہ آمیزبادامی رنگت کی خاتون تھیں۔ جب میںنے اُنھیں پہلی مرتبہ دیکھا تو اُن کے چہرے پر مقناطیسی جاذبیت تھی ،ایک تابانی اپنی جانب کھینچتی تھی۔ وہ جسم کے آرپار ہونے والی نظروں سے دیکھتی تھیں۔ اکثر اُن کی آنکھیں گہری سوچ میں نظر آتیں۔میں کل کا لونڈا تھا اور وہ معروف ہیروئن سو ایک گلیمر بھی مجھے اُن کی شخصیت سے مسحور کرتا تھا۔‘‘
’’اُن کا گھر کیسا تھا؟‘‘میں نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’میں نے دیکھا ہے کہ بعض سادہ سے لوگ گھروں کی خوب زینت و زیبایش کرتے ہیں جب کہ خوب چمک دمک والے لوگ گھروں کو سادہ رکھتے ہیں۔ ان کے گھر جا کر مجھے حیرت ہوئی، عام سا گھر اورسادہ سا سامان۔ گھر بھی خاص وسیع نہ تھا، بس چار کمرے اور وسط میں دیوان خانہ (انگریزی میں ڈرائنگ روم، وِدڈرائنگ روم(گوشۂ خلوت) کا مخفف ہے)باورچی خانہ وغیرہ۔سازو سامان بھی سادہ اور عام سا تھا۔ اُس گھر میں کمال صاحب کے فلم سے وابستہ دونوجوان رشتے دار بھی رہتے تھے۔ مینا جی نے ہم سب کا بہت محبت سے استقبال کیا۔اُن سے ہماری زیادہ ملاقات کھانے کے دوران ہوتی یا پھر ناشتے کے بعد ہمارے ساتھ کچھ وقت گزارتیں۔ میں ایک احتیاط خاص کرتا، اُن کے ساتھ فلموں پر کم سے کم بات کرتا۔ وگرنہ میری شیفتگی اُن پر گراں گزرتی اور وہ مجھے ایک رشتے دار سے ہٹ کر فلم بین کے طور پر دیکھ کر تکلف بیچ میں لے آتیں۔انھیں شاعری سے شغف تھا، نازؔ تخلص کرتی تھیں، سو اپنی بساط کے مطابق میں زیادہ ادب و شاعری کی باتیں کیا کرتا۔ یہ باتیں انھیں خوب دل چسپ لگتیں اور وہ ان میں کھو جاتیں۔ ایک روز وہ مجھ سے پوچھنے لگیں کہ مجھے ادب کا ایسا شوق کیوں کر ہے۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں اسے پیشے کے طور پر اختیار کرچکا ہوں تو وہ خاصی متاثر ہوئیں۔ جب میں نے انھیں امیر علی ٹھگ کی ’انشا‘ میں شائع ہونے والی آپ بیتی کا بتایاتو انھیں یقین نہ آیا۔ انھوں نے حیرت سے مجھے دیکھا اور دوبارہ پوچھا کہ کیا ایسی رواں تحریر میری ہی ترجمہ کی ہوئی ہے۔ وہ اُسے باقاعدگی سے پڑھتی تھیں۔میرے اثبات پر،تکلف کی معمولی سی پردہ داری بھی ہٹ گئی۔اب وہ خوب جم کر مجھ سے گپ لگانے لگیں۔’’آپ نے اُن سے کبھی بھی فلمی زندگی کا نہیں پوچھا؟‘‘میں نے استفسار کیا تو بولے۔

’’ میں ان کی فلمی زندگی کا ذکر قطعی طور پر نہ کرتا،تو وہ سمجھتیں کہ میں جانتے بوجھتے ایسا کررہا ہوں۔ سو میں نے ایک بار اُن سے پوچھا کہ انھیں فلمی دنیا کیسی لگتی ہے تو انھوں نے حسرت بھرے لہجے میںکہا کہ شروع میں تو اچھی لگتی تھی، بعد میں قید کا احساس ہونے لگا۔ میں نے اُن سے ستایش بھرے لہجے میں کہا کہ اُن کے پاس عزت، دولت، شہرت سبھی کچھ ہے۔ یہ سن کر اُن کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ گھر میں اداکاری نہیں کرتی تھیں، اُس روز انھوں نے اس میں کمالِ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ طاری کرلی تھی۔‘‘
’’اُن کی زندگی کے ایسے گوشے جو کم ہی لوگوں کو معلوم ہوں، کیوں کہ آپ توان کے گھر دوہفتے کے لیے مہمان تھے؟‘‘ میرے سوال پر شکیل بھائی نے کچھ دیر سوچا اور بتانے لگے۔

’’ہاں،وہ روز قرآن پاک کا ایک سپارہ ختم کرتی تھیں۔ میں نے تو نہ دیکھا، گھریلو ملازم بتاتے تھے۔ دوسرے، ایک عورت روز ان کے بدن کی مالش کرنے آتی تھی۔دو گھنٹے بعد وہ نہا دھو کر کھلے بالوں کے ساتھ ڈرائنگ روم میں آتیں توبہت اجلی نکھری ہلکی پھلکی نظر آتی تھیں۔دو واقعات کا تذکرہ ان کی شخصیت کو اور کھول کر بیان کردے گا۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘میں نے تجسّس سے پوچھا۔

’’ایک روز ہم سب نے فلم پر جانے کا ارادہ کیا۔ کمال صاحب اور مینا جی بھی ساتھ تھے۔ ہم نے دانستہ دیر سے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اندھیرے میں انھیں کوئی پہچان نہ سکے۔احتیاطاً مینا جی نے برقع بھی اوڑھ لیا۔ فلم کے وقفے میں کمال صاحب کی وجہ سے لوگوں نے ہمیں پہچان لیا۔ وہ ہمارے اِردگرد منڈلانے لگے۔ کمال صاحب نے یہ دیکھ کر فلم ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔لوگ بھی تاک میں تھے۔ بس وہ ہلڑبازی ہوئی کہ خدا کی پناہ۔لوگوں نے ایسے ایسے بے ہودہ جملے کسے، گالیاں دیں اور فحش اشارے کیے کہ میرے تو کانوں کی لوویں سرخ ہوگئیں۔ہم بھاگ کر گاڑیوں میں بیٹھے اور گھر کی راہ لی۔ گھر پہنچ کر تذلیل کے احساس سے میرا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ میناجی یوں اطمینان سے بیٹھی تھیں جسے اُنھیں اس کی عادت ہو۔‘‘

’’دوسرا واقعہ کچھ یوں ہے ۔‘‘شکیل بھائی نے مزے لیتے ہوئے سنانا شروع کیا۔
’’ہماری کبھی رات کو، کبھی تاش کی بازی لگتی۔ ایک رات دو ٹیمیں بن گئیں۔ایک ٹیم میں کمال صاحب اور میناجی، جب کہ دوسری میں مَیں اور کمال صاحب کے بھانجے بھائی شانے تھے۔ سب کو توقع تھی کہ میرے اناڑی پن کی وجہ سے ہماری ٹیم ہار جائے گی۔
کمال صاحب نے تجویز کیا کہ ہارنے والی ٹیم جیتنے والی ٹیم کے پیر پکڑکر ندامت کا اظہار کرے گی۔
ہم نے احتجاج کیا لیکن کمال صاحب نہ مانے۔

بازی بڑھی تو حسب ِ توقع ہم ہارنے لگے۔ آہستہ آہستہ مخالف ٹیم کی کچھ تھک کر اور کچھ بوریت سے دل چسپی گھٹنے لگی۔ میرے پاس بھی چند اچھے پتّے آگئے اور ہاتھ رواں ہوگیا۔ بالآخر ہم جیت گئے۔ جب ہمارے پاؤں چھونے کی باری آئی تو ہم نے انھیں معاف کردیا۔ انھوں نے معافی کی پیش کش رد کردی اور حکم دیا کہ ہم اپنے پیر آگے بڑھائیں۔ جب میں نے اپنے پیر آگے بڑھائے تو مینا جی نے میرے پیر چھوئے اور بولیں’’ہم ہارگئے بھئی تم جیتے‘‘یہ کہہ کر وہ خلاف ِ عادت، کھلکھلا کر ہنسنیلگیں۔اُن کے اور کمال صاحب کے درمیان ایک رسمی اور تکلف کا تعلق تھا۔ اُس روز ان کی ہنسی میں نے پہلی مرتبہ سنی تو یوں لگا جیسے گھنٹیاں بج اُٹھی ہوں اور مکان میں گھر کی فضا بن گئی ہو۔اُن کی ہنسی میرے لیے سب سے بڑا انعام تھی۔‘‘

’’یوں آپ کے دن وہاں خوب گزرے‘‘میں نے وہاں کے قیام کو سمیٹتے ہوئے جملہ بولا تو شکیل بھائی چونک گئے۔
’’اصل بات تو ابھی باقی ہے۔ ایک رات کمال صاحب اور گھر کے دیگر افرادکہیں مدعو تھے۔ مینا جی اور میں گھر پر تھے۔ ہم نے رات کا کھانا اکٹھے کھایا، چائے پی اور خوش گپیاں کیں اور میں باجی امی اور بیبا کے ساتھ کمرے میں آن لیٹا جو آتے ہی سوگئیں۔مجھے نیند نہیں آرہی تھی سو رسالوں کی ورق گردانی کرتا رہا۔ کوئی گھنٹے بھر بعد دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور اسے نیم وا کیا گیا۔ میں نے دیکھا تو مینا جی تھیں۔ یک دم میں اُٹھا اور لپکا’’آیئے آیئے‘‘۔
’’سو تو نہیں گئے تھے، میں نے تمھیں ڈسٹرب تونہیں کیا؟‘‘ انھوںنے آہستگی سے پوچھا۔
’’نہیں نہیں میں تو جاگ رہا تھا اور رسالے پڑھ رہا تھا‘‘میں نے جواب دیا۔

’’وہ بولیں کہ انھیں نیند نہیں آرہی تھی، سو باتیں کرنے کو جی چاہا۔ میں اُن کے پیچھے چلتا ہواحسب ِ معمول ڈرائنگ روم میں آگیا۔ وہ وہاں رکی نہیں اور اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھ گئیں۔ اب تک قریباً نصف ماہ میں میںنے پورا گھر دیکھ لیا تھا۔ ان کا کمرا نہ دیکھا تھا۔ وہ کمرا گھر بھر میں سب سے مرصّع تھا۔ قیمتی سامان، ریشمی پردے، ریشمی چادر، قیمتی صوفہ اور سنگھار میز کے بلب سے پھوٹتی خواب آگیں روشنی۔ میں نے اُن کی طبیعت کا پوچھا تو وہ بولیں کہ اُن کا سربھاری ہورہا ہے۔ میں نے پیش کش کی کہ میں سر دبا دیتا ہوں۔‘‘
’’مجھے سر دباتے ہوئے آیتیں پڑھ کر درد کاٹنا آتا ہے۔‘‘ میں نے یقین سے کہا تو میری بے ساختگی اور معصومیت پر وہ کھلکھلا پڑیں۔
’’وہ کیسے؟‘‘ انھوںنے بنتے ہوئے کہا۔میں فوراً صوفے کے پیچھے جاکھڑا ہوا اور اُن کی پیشانی پر انگلیاں رکھ کر انگوٹھے کن پٹی سے لاتے ہوئے اُن سے ملا دیں۔ یوں میں اُن کا سردبانے لگا۔اُن کے سیاہ گھنے بال کھلے تھے اور خوشبو اٹھ رہی تھی۔ مجھ پر ایک نشہ سا طاری ہوگیا۔ اُن کی جلد خاصی چست تھی۔ میں آیتیںبھی پڑھ کر پھونکنے لگا۔ اُن پر لطف و خمار طاری ہونے لگا۔ خاصی دیر تک سَر دبا کر میں ہٹا تو وہ نیم سرور میں بولیں۔
’’سر سے ایک بوجھ ہٹا محسوس ہوتا ہے۔‘‘

اس کے بعد ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھاکہ میں بمبئی رک کیوں نہیں جاتا۔ میں نے مختلف بہانے کیے۔ وہ ایک نہ مانیں اور کہنے لگیں کہ تعلیم اور روزگار کے مواقع تو بمبئی میں بھی خاصے میسر ہیں۔ جب بات آگے بڑھی تو میں نے جھجکتے ہوئے کہہ دیا کہ مجھے فلمی دنیا اچھی لگتی ہے ۔

وہ زہر خند لہجے میں بولیں۔’’یہ دنیا!سارا فریب ہے، دکھاوا ہے۔ یہاں کچھ نہیں رکھا۔‘‘
جب میں نے بہانہ کیا کہ پاکستان میں میرے رہنے کا مناسب انتظام ہونے لگا ہے تو انھوں نے بات کاٹ دی۔
’’یہاں بھی سارا انتظام ہوسکتا ہے۔ پھر میں بھی تو یہیں ہوں۔اطمینان رکھو، تمھارا خیال رکھاجائے گا۔‘‘
’’آپ؟‘‘میں نے حیرت سے کہا تو وہ سادگی اور راز داری سے بولیں۔
’’کوئی بوجھ نہ ہوگا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوگی۔‘‘
مجھے متذبذب دیکھ کر انھوں نے اضافہ کیا۔

’’مجھے خوشی ہوگی اگر تم کسی قابل ہوجاؤ، جو چاہتے ہو وہ بن جاؤ۔‘‘ اتنے میں گاڑی کے ہارن نے کمال صاحب کے آنے کی اطلاع دی۔ میں نے دروازہ کھولا تو کمال صاحب نے ہم دونوں کو جاگتے دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔
’’ہم دونوں دنیا جہاں کی باتیں کررہے تھے۔‘‘ وہ بولیں۔
رات کو میں کم ہی سوپایا۔

صبح ناشتے کے وقت مجھے باورچی نے کہا کہ بیگم صاحبہ مجھے یاد کررہی ہیں۔ میں الجھے خیالات کے ساتھ پچھلی بالکونی پر پہنچا تو وہ مسکرا رہی تھیں۔ انھوں نے نیلے رنگ کا ایک لفافہ مجھے تھمایا۔
’’مجھے آج جلدی جانا ہے اور رات کو واپسی میں دیر ہوسکتی ہے۔ تم یہ رکھ لو،یہ تمھارے لیے ہے۔‘‘
جب میں نے انکارکیا تو انھوں نے زبردستی مجھے وہ لفافہ تھما دیا اور وہاں سے چلی گئیں۔
بعد میں میں نے اُس رات اور اگلی صبح وہ لفافہ انھیں لوٹانے کی خاصی کوشش کی لیکن تنہائی میسر نہ آئی۔‘‘
’’اُس لفافے میں کیا تھا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ایک ہزار روپے کی رقم۔سو سو روپے کے دس نوٹ۔یہ اُس زمانے میں خاصی بڑی رقم تھی۔‘‘ شکیل بھائی نے اٹھتے ہوئے کہا۔
میں اُنھیں باہر تک رخصت کرنے آیا تو ایک سوال میرے ہونٹوں پر مچل رہا تھا۔
’’کیاآپ کا بعد میں مینا کماری سے رابطہ رہا؟‘‘
’’ہمیں رخصت کرتے وقت اُن کی آنکھیں نمی سے جھلملا رہی تھیں۔ کراچی آنے کے بعد ہمارا چند خطوط کی حد تک رابطہ رہا، وہ بھی ٹوٹ گیا۔‘‘

شکیل بھائی کو رخصت کرکے میں مینا کماری کا سوچتا رہا۔ وہی مینا کماری جو کمال امروہوی سے علیحدگی کے بعد بسیار نوشی کے باعث جگر کے عارضے میں مبتلا ہو کر جوانی میں فوت ہوگئی تھیں۔البتہ اُن کی شخصیت کاایک معما میرے لیے ہنوز تشنۂ تعبیر ہے۔ اُن کا ہمیشہ اپنے سے چھوٹے جوان مردوں کی جانب رومانوی اور دیگر معاملات میں جھکاؤرہا جن میں سے اداکار دھرمیندر سے اُن کا رومانوی ،گل زار سے محبت بھرا تعلق منظرِ عام پر آیا۔
کمال امروہوی کی بھی اِس معاملے میں ایک کہانی، ایک نقطۂ نظر ہوگا۔
اُسے سنانے کو اُس رات کوئی موجود نہ تھا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر