خصوصی فیچرز


میں ٹرک ڈرائیورسے بل گیٹس کیسے بنا؟

استاد نے اسے گھور کر دیکھا اور شدید غصے میں بولا ”بل تم میری بات کان کھول کر سن لو . تم زندگی میں زیادہ سے زیادہ ٹرک ڈرائیور بن سکتے ہو“ پوری کلاس نے قہقہہ لگایا اور وہ تھکے تھکے قدموں سے باہر نکل گیا . یہ ہارورڈ یونیورسٹی میں اس کا آخری دن تھا .وہ اس یونیورسٹی میں ریاضی کا طالب علم تھا. اسے کلاس روم کا ماحول , کلاس فیلوز کی گفتگو .اساتذہ کا پڑھانے کا طریقہ اور یونیورسٹی کی نئی پرانی روایات

بور لگتی تھیں  وہ کئی کئی دن کیمپس سے غائب رہتا تھا.اس کا زیادہ تر وقت سیاٹل جھیل کے کنارے پال ایلن کے ساتھ گزرتا تھا. پال بھی اس کی طرح لمبی منصوبہ بندی کا ماہر تھا . وہ دونوں گھنٹوں کسی ایسی دنیا کے بارے میں سوچتے رہتے تھے جو ابھی تخلیق کے مراحل میں داخل نہیں ہوئی تھی‘ وہ دونوں دن میں خواب دیکھتے تھے. ان خوابوں کے دوران ایک دن ہارورڈ یونیورسٹی نے اس کا نام خارج کردیا تھا .وہ یہ خط لے کر ایلن کے پاس گیا اور اسے خط دکھا کر بولا ”آﺅ پال ہم اس دنیا کی بنیاد رکھیں جو آج تک صرف ہمارے ذہن میں تھی“ پال ایلن نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔وہ 28 اکتوبر 1955ءکو واشنگٹن ریاست کے شہر سیاٹل میں پیدا ہوا . اس کے والد وکیل تھے. سارا گھرانہ پڑھا لکھا اور معزز تھا لیکن بل پڑھائی میں ذرا پیچھے تھا. اس میں یکسوئی نہیں تھی. اس کی سوچیں منتشر ہو جاتی تھیں اور اس کے والدین اس کی وجہ سے پریشان رہتے تھے . اس کے والد کی خواہش تھی وہ ہارورڈ یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ ڈگری لے لیکن یونیورسٹی نے اس کا نام خارج کردیا . اس کے والد کو شدید صدمہ پہنچا لیکن بل مطمئن تھا ‘اس کا خیال تھا ہارورڈ یونیورسٹی کسی نہ کسی دن اپنے اس نالائق طالب علم پر فخر کرے گی ۔ آنے والے دنوں میں اس کی یہ بات سچ

ثابت ہوئی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے گیٹ پر اس کے نام کی تختی لگ گئی لیکن یہ بہت بعد کی بات ہے‘ ہم ابھی 1975ءمیں ہیں1975ءمیں اس نے اپنے دوست پال ایلن کے ساتھ مل کر دنیا کی پہلی سافٹ وئیر کمپنی بنائی . اس کمپنی کا نام ”مائیکرو سافٹ“ رکھا گیا .لوگ اس کے آئیڈیاز اور کمپنی کے نام دونوں پر ہنستے تھے لیکن اس نے ہمت نہ ہاری. وہ کام کرتا چلا گیا یہاں تک کہ 1979ءتک کمپنی نے پر پرزے نکال لئے اور

وہ ٹھیک ٹھاک امیر ہوگیا لیکن ابھی وہ اس کامیابی سے دور تھا جو بچپن سے اس کے ذہن پر دستک دیتی آرہی تھی  1980ءمیں سٹیوبالمر نے کمپنی جوائن کی اور اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے مائیکرو سافٹ واشنگٹن ریاست کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی. اس کے پاس روزانہ اتنے چیک آتے تھے کہ بینک نے اس کے دفتر میں اپنی شاخ کھول لی.آنے والے دنوں میںدنیا کے 51 بڑے بینکوں نے مائیکرو سافٹ میں اپنی شاخیں کھولیں

اور بینک اکاﺅنٹس کے حصول کیلئے مائیکروسافٹ کو باقاعدہ ترغیبات دینے لگے  1990ءتک مائیکرو سافٹ دنیا کی سب سے مشہور کمپنی تھی اور وہ دنیا کا نامورترین شخص تھا . وہ اس قدر مشہور ہوا کہ بل کلنٹن نے 1998ءمیں اعلان کیا ”وی آر دی نیشن آف بل گیٹس“ یہ ہارورڈ یونیورسٹی کے اس نالائق طالب علم کا پہلا اعزاز تھا۔

جی ہاں اس شخص کا نام بل گیٹس ہے اور یہ پچھلے بارہ سال سے دنیا کا امیر ترین شخص ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا واحد شخص ہے جو 38 برس کی عمر میں دنیا کا امیر ترین شخص بنا اور اس نے مسلسل 12 سال تک یہ اعزاز برقرار رکھا. مائیکرو سافٹ میں اس وقت 63 ہزار 5 سو 64 لوگ ملازم ہیں . اس کا کاروبار 102 ممالک تک پھیلا ہے جبکہ یہ کمپنی اب تک دنیا کے ایک لاکھ 28 ہزار لوگوں کو ارب پتی بنا چکی ہے.

مائیکرو سافٹ کے ملازمین اوسطاً 89 ہزار 6 سو ڈالر سالانہ تنخواہ لیتے ہیں . مائیکروسافٹ کے پانچ ڈائریکٹر ہیںاور بل گیٹس کے پاس سب سے زیادہ شیئرز ہیں. وہ 97 کروڑ 74 لاکھ , 99 ہزار 3 سو 36 شیئرز کا مالک ہے ‘ امریکی سٹاک ایکسچینج میں مائیکرو سافٹ کے شیئر کی قیمت اس وقت 23 ڈالر ہے. پچھلے 15 برسوں میں میڈیا نے بل گیٹس کو پوری دنیا میں سب سے زیادہ کوریج دی . وہ دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں شمار ہوتا ہے. لوگ اس کے ساتھ ہاتھ ملانا.اس کے ساتھ تصویر کھنچوانا اعزاز سمجھتے ہیںجبکہ اسے دنیا کے 35 ممالک میں سربراہ مملکت کا پروٹوکول حاصل ہے۔

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کو قدرت نے اتنی دولت سے نوازا کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی مجموعی دولت کے ساتھ بھی ان کے برابر نہیں آسکتے۔ خوبصورت بات یہ ہے کہ اس انتہائی دولتمند شخص نے اپنے اربوں ڈالر دنیا کے غریب ترین ممالک کے غریب ترین لوگوں کی صحت اور تعلیم کیلئے وقف کردئیے ہیں، مگر وہ کون سا لمحہ تھا جس نے بل گیٹس کو اپنی دولت غرباءکیلئے وقت کرنے پر مجبور کردیا؟

صحافی چارلی روز کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں گیٹس کی اہلیہ میلینڈا نے بتایا کہ ان کے خاوند ایک افریقی ہسپتال میں ٹی بی کے مریضوں کی عیادت کیلئے گئے تھے۔ انہوں نے ہسپتال سے ہی اپنی اہلیہ کو کال کی لیکن جب انہوں نے بات کرنے کی کوشش کی تو شدت جذبات سے ان کے گلے سے آواز نہ نکل رہی تھی۔ میلینڈا کہتی ہیں کہ گیٹس مریضوں کی بدحالی اور دردناک صورتحال دیکھ کر اس قدر رنجیدہ تھے کہ لگتا تھا کہ وہ ابھی رو دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بیچارے مریض اس حال میں ہیں کہ گویا انہیں موت کی سزا سنا دی گئی ہو۔ اُس دن کے بعد بل گیٹس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ دنیا میں مفت ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر فراہم کرنے سے زیادہ توجہ غریب لوگوں کی صحت اور تعلیم پر دیں گے تاکہ وہ پسماندگی کے جہنم سے ہمیشہ کیلئے نکل جائیں۔ افریقہ کے  بعد انھیں اس بات کا ادراک بھی ہوا کہ وہ دنیا بھر کو کمپیوٹر کے استعمال پر لگانا چاہتے ہیں لیکن بیشتر علاقوں میں تو کمپیوٹر چلانے کے لئے بجلی بھی نہیں ، لہذا ضروری ہے کہ غریب افراد کا طرز زندگی بہتر بنانے کے لئے اپنا وقت اور دولت وقف کی جائے. آج ”بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاﺅنڈیشن“ دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرکے غریب ترین لوگوں کو ادویات، علاج اور تعلیم کا تحفہ دے رہی ہے۔

اوپر