خصوصی فیچرز

انٹرویو میں ان 5 بنیادی غلطیوں سے بچیں

اس جدید اور تیز رفتار دور میں کسی نوکری کے لیے اہل ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ کو یہ ملازمت مل جائے گی۔ یہاں انٹرویو کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔آپ کو نوکری پر رکھنے والے آپ سے یہ امید نہیں کررہے ہوتے کہ آپ بغیر کسی غلطی کے اپنا انٹرویو مکمل کرلیں گے تاہم کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے بنتی بات بھی بگڑ جاتی ہے۔

ہم یہاں آپ کو ایسی ہی پانچ عام غلطیاں بتارہے ہیں جو عام پر انٹرویو کے دوران ہوجاتی ہیں۔تفصیلات میں نہ جانا انٹرویو لینے والے افراد یہ بات جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے ماضی میں کیا حاصل کیا ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر بات کرنے سے آپ اپنے انٹرویور کے لیے مشکل پیدا کردیں گے کہ وہ آپ کو اس نوکری کے لیے منتخب کرے۔ مثال کے طورمثال کے طور پر یہ کہنا ہے کہ ‘میں آن لائن مارکیٹنگ کے بارے بہت کچھ جانتا ہوں’ اس کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ ‘پچھلی نوکری میں میں آن لائن مارکیٹنگ ٹیم کا سربراہ تھا اور میری تجاویز کے باعث ہماری سوشل میڈیا پر انگیجمنٹ 40 فیصد بڑھ گئی۔’ بہت لمبے جواب دیناغیر ضروری طور پر اپنے جوابات لمبے کرنے سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ آپ اپنے خیالات کا اظہار کم الفاظ میں کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ یہ کسی بھی انٹرویور کے لیے ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے جسے آپ کے علاوہ بھی کئی افراد کے انٹرویو کرنے ہیں۔ انٹرویور کی جانب سے اشاروں کا جائزہ لیں اور اگر وہ آپ کے جوابات میں مداخلت کررہا ہے تو یہ ایک اشارہ ہے کہ آپ شاید ضرورت سے زیادہ وقت لے رہے ہیں۔ اگر انٹرویو کے دوران انٹرویو کرنے والا شخص آپ سے یہ کہتا ہے کہ ان کے پاس 45 منٹ اور متعدد سوالات ہیں تو اس کا مطلب پہلے سوال کا جواب آپ کو دس منٹ کے اندر ختم کرلینا چاہیے۔ کمپنی یا نوکری کے بارے میں لاعلم ہونا یہ بات بالکل درست ہے کہ کسی کمپنی کی اندرونی راضوں کا علم آپ کو ایک انٹرویو کے دوران تو نہیں ہوگا۔تاہم اگر آپ کو اپنی نوکری اور کمپنی کے بارے میں بنیادی باتوں کا بھی علم نہیں،

یہ بات انٹرویو کے دوران برا تاثر ڈال سکتی ہے۔ اس کا بہترین حل کمپنی کی جانب سے دیا گئے اشتہار اور کمپنی کی ویب سائٹ کا جائزہ لینا ہے۔ سوالات کے جواب دینے سے گریز کرناکبھی کبھار کچھ امیدوار کچھ مضامین پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ جیسا کہ ان کی پچھلی نوکری کے بارے میں بات کرنا کہ کیا وہ وہاں سے نکالے گئے یا انہوں نے نوکری خود چھوڑی اور اس کے پیچھے وجہ کیا تھی۔ایک انٹرویور باآسانی یہ بات سمجھ جائے گا کہ آپ کسی سوال کا جواب دینے سے گریز کررہے ہیں اور یہ بات آپ کے خلاف جاسکتی ہے۔ ایسے موقع پر بہترین صورت یہی ہے کہ آپ سچ اعتماد کے ساتھ پیش کریں۔

خود کے بارے میں شبہات دور کرنا زیادہ تر امیدوار اس سوال کا مناسب جواب نہیں دے پاتے کیوں کہ عام طور پر انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انٹرویو کے دوران اپنے آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بہتر ہے۔تاہم زیادہ تر انٹرویورز یہ سمجھ جاتے ہیں اور واقعی یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ یہ نوکری کرنے کے لیے درست امیدوار ہیں یا نہیں۔ اگر انٹرویور اس طرح کے سوالات آپ کے سامنے رکھے تو ان کا مناسب انداز میں جواب دیں۔ اگر انٹرویور کا خیال ہے کہ آپ کا کسی مخصوص شعبے میں مطولبہ تجربہ نہیں تو یہ آپ کا کام ہے کہ اسے اس بات پر قائل کریں کہ آپ اپنے کم تجربے کے باوجود اس مسئلے کو کس طرح حل کریں گے۔

اوپر