پاکستان


’’کس نے برمی مسلمانوں کی کتنی مدد کی؟‘‘ اقرار الحسن اور وقار ذکا کے درمیان جھگڑا عروج پر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی عروج پر ہے اور عالم اسلام کی بڑی تعداد بے حسی سے اس کا مظاہرہ دیکھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے چند اینکرحضرات یہ بحث شروع کئے ہوئے ہیں کہ ان میں سے کس نے روہنگیا مسلمانوں کی زیادہ یا عملی مدد کی اور کون کراچی میں بیٹھ کر ہی

ٹی وی چینل کیلئے ریکارڈنگ کرتا رہا۔تفصیلات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی مدد کو لے کر نامور اینکر پرسن اقرار الحسن اور وقار ذکا کے مابین نوک جھوک ، زبانی کلامی جھگڑے تک جا پہنچی۔ اقرار الحسن کے ایک فین کی ٹویٹ سے معاملہ شروع ہوا جس میں فین نے اینکر پرسن کو توجہ دلائی کہ وقار ذکا انہیں برا بھلا کہہ رہا ہے۔ جواب میں اقرار الحسن نے اپنےفین سے کہا کہ وہ وقار ذکا کی عزت کرتے ہیں اس لیے کوئی جواب نہیں دیں گے، جو بھی ہے وقار ذکا ان کے سینئر ہیں اس لیے وہ دعا گو ہیں کہ اللہ وقار ذکا کو انسانیت کی مزید خدمت کا موقع دے۔اقرا ر الحسن نے اپنی ٹویٹ کی تو وقار ذکا نے جواب میں ایک اور ٹویٹ کر دی اور کہا کہ اقرارالحسن نے انہیں سمجھنے میں غلطی کی ہے، وہ اقرار الحسن کو اپنی پیروی پر سراہتے ہیں لیکن ساتھ ہی درخواست بھی کرتے ہیں کہ وہ صرف رپورٹنگ کرنے کی بجائے روہنگیا مسلمانوں کی عملی مدد کریں۔مذکورہ ٹویٹ کے بعد دونوں اپنی اپنی صفائیاں پیش کرنے لگے اورایک دوسرے پر کیچڑ بھی اچھالنے کی کوشش کرتے رہے ۔ اس بحث کے دوران وقار ذکا نے تو یہ تک بھی کہہ دیا کہ اقرار الحسن کبھی برما گئے ہی نہیں بلکہ کراچی میں ہی بیٹھ کر اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کر ر ہے ہیں۔ مذکورہ بحث کا اختتام اس بات پر ہوا کہ دونوں مل کر بیٹھیں گے اور پھر معاملات کو حل کیا جائے گا۔

اوپر