اہم خبریں


نیواسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیری لاگت مختلف 37ارب تھی لیکن تعمیر کتنے ارب میں ہوا؟چونکا دینے والا انکشاف

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کو بتایاگیا ہے کہ نیواسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیری لاگت مختلف وجوہات کی بناء پر 37 ارب سے 81 ارب تک پہنچ گئی۔ بدھ کو وقفہ سوالات کے دور ان وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران نیشنل کالج آف آرٹس نے کیوبا، ایران، نیپال، چین اور آسٹن کے آرٹس انسٹی ٹیویٹس کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی

تعمیری لاگت کا ابتدائی پی سی ون 37 ارب تھا لیکن ڈیزائن اور نئے آئٹم کی عدم موجودگی کی وجہ سے اخراجات میں فرق 29.187 بلین، تبدیل شدہ آرڈڑز پر 6.242 بلین، پرائس ایڈجسٹمنٹ و ٹیکس کے باعث 3.982 بلین اضافہ ہوا اس طرح مجموعی طور پر پی سی ون کی نظرثانی شدہ لاگت 81.171 بلین تک پہنچ گئی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پانی کے لئے ذخائر بنانے کے لئے جگہ ایکوائر کی گئی، 2013ء میں اس منصوبے کو التواء سے نکال کر ری ڈیزائن کر کے بین الاقوامی معیار پر لایا گیا۔ اس وجہ سے بھی قیمتیں بڑھی، پانی کے لئے رملا ڈیم بنا دیا گیا، ٹیوب ویل بھی نصب ہیں، 98 فیصد منصوبہ مکمل ہے۔وزیرپارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع تو 1976ء میں اس وقت کے وزیراعظم نے ہایئر ڈیفنس آرگنائزیشن کے طور پر قائم کی تھی۔ کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بحیثیت پرنسپل اور چیف ملٹری ایڈوائزر کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ اس کمیٹی کا آخری اجلاس اگست 2013ء میں منعقد ہوا۔ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق حساس امور کے حوالے سے نیشنل سیکورٹی ڈویژن یکم جنوری 2010 میں قائم کیا گیا تھا اور 11 اپریل 2014 کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی قائم کی گئی جس کا باقاعدہ سیکرٹریٹ بھی موجود ہے۔

کمیٹی کا سربراہ وزیراعظم ہے۔ یہ کمیٹی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اور کابینہ وزراء سے مشاورت کرنے کا ایک فورم ہے اور اس ضمن میں وزیراعظم کو مشورہ دینا ہے ،اس کا اجلاس 4 اکتوبر 2016 کو منعقد کیا گیا تھا شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ملکی حالات کے بعد ترمیم کر کے قومی سلامتی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ وزیر تجارت و ٹیکسٹائل پرویز ملک نے کہا کہ سی ڈی ڈبلیو پی نے 29 اکتوبر کو 2500 ملین کی لاگت سے ایکسپو سنٹر پشاور کی منظوری دی تھی۔

ایکسپو سنٹر میں ایک کانووکیشن سینٹر، دو نمائشی ہالز ہوں گے۔ اس منصوبے کے لئے 600 ملین مختص کئے گئے تھے۔ 120 ملین جاری ہوئے ہیں۔ وزیر تجارت محمد پرویز ملک نے اس حوالے سے کو ایوان کو مزید بتایا کہ یہ منصوبہ 2018ء میں مکمل ہونا ہے۔ ضمنی سوال کے جواب میں وزیر تجارت نے بتایا کہ اس منصوبے کیلئے جگہ ایکوائر ہو چکی ہے۔ مقررہ مدت تک یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ پاکستان میٹرولوجیکل ایک ٹیکنیکل اور سروس ڈیپارٹمنٹ ہے جو ایوی ایشن ڈویژن کے ماتحت ہے،

پی ایم ڈی سی کے پانچ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور، کوئٹہ، گلگت بلتستان میں 10 میٹر ولوجیکل سٹیشنز چل رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور میں نیشنل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر اسلام آباد، نیشنل ایئرو میٹرو لوجیکل سنٹر اسلام آباد میں، نیشنل سسمک مانیٹرنگ اینڈ سونامی ارلی وارننگ سینٹر کراچی اور اسلام آباد میں واقع ہے۔ سویل ایوی ایشن اتھارٹی نیشنل سول ایوی ایشن تنظیم کی ممبر ہے، آئی سی اے او نے بین الاقوامی معیار اور مخصوص ایس او پی دنیا بھر کی سول ایوی ایشن اتھارٹیز اور ان کے نیشنل میٹرولوجیکل سروسز کے اشتراک کے لئے بنائے ہیں۔

پی ایم ڈی نے 2017ء میں نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجودہ میٹ سہولیات گھر اپ گریڈ کر لیا ہے۔ وزیر تجارت پرویز ملک نے کہا کہ بیلا روس کے ساتھ 2013-14ء میں 0.65 ملین کی ایکسپورٹس، 24.76 ملین کی ایکسپورٹس، 2014-15ء میں 0.37 ملین ایکسپورٹس، 45.11 ملین امپورٹ، 2015-16ء میں 0.58 ملین کی ایکسپورٹ، 28.20 ملین کی امپورٹ، 0.58 ملین کی ایکسپورٹ، 41.69 ملین امپورٹ ہوا۔ وزیر تجارت نے ایوان کو بتایا کہ بیلا روس کے ساتھ پھلوں اور میوہ جات کی برآمدات پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔

وزیر تجارت پرویز ملک نے بتایا کہ 2013-14ء میں 0.708 ملین ڈالر، 2014-15ء میں 3.880 ملین ڈالر، 2015-16ء میں 1.648 ملین ڈالر کے ہینڈی کرافٹس درآمد کئے گئے ہیں۔ وزیر تجارت نے بتایا کہ ہمارے ہینڈی کرافٹ 65 ممالک میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مصنوعات مہنگی ہونے کی وجہ سے برآمدات کم ہو رہی ہیں، اب ہم نئی کوالٹی اور مصنوعات شامل کر رہے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد میں پیڈ کار پارکنگز کی تعمیر کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ تیار کی گئی ہے۔

وزیر کیڈ نے کہا کہ اسلام آباد میں دو کار پارکنگ ’’فری فار آل‘‘ بنائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ گرین بیلٹ پر کوئی پارکنگ نہ ہو۔ اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں میرٹ ہوٹل، یو ایس ایمبیسی اور باقی اداروں کے لئے پارکنگ چارج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں کمرشل عمارتوں میں پارکنگ کی جگہ پر دکانیں بنی تھیں۔ موجودہ حکومت نے اس روایت کو ختم کر دیا اور بلڈنگ بائی لاز کے مطابق پارکنگ ایریا کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ صفا گولڈ مال کو بھی اس خلاف ورزی پر سربمہر کیا گیا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ کیڈ کے ماتحت اسلام آباد میں 422 تعلیمی ادارے چل رہے ہیں، نصاب اور انتظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں 200 ملین مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں لازمی تعلیم کے آرٹیکل پر مکمل عمل ہو رہا ہے، مونٹیسوری سے میٹرک تک کسی طالب سے ایک روپیہ چارج نہیں کرتے، کتب بھی مفت دی جاتی ہیں، ہم نے سمری پی ایم کو بھجوائی ہے کہ دو یونیفار، بیگ، پانچویں جماعت تک کے لئے دودھ، بسکٹ بھی دیئے جائیں۔

وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ ایڈیشنل سیکرٹریز، جوائنٹ سیکرٹریز، ڈپٹی سیکرٹریز کی تعیناتی کے لئے صوبائی کوٹہ نہیں ہوتا، وفاقی حکومت سیکشن افسران کے عہدوں کے لئے کے پی کے لئے 6 فیصد اور بلوچستان کے لئے 11.5 فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ تمام سروسز گروپ کے افسران کی ترقیاں میرٹ پر ہوتیں ہیں، مقابلے میں خواتین آگے جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پاکستان، ایڈمنسٹر سروسز، پولیس سروس آف پاکستان، سیکرٹریٹ گروپ، او ایم جی، ڈی ایم جی، پی اے ایس اور ایس جی میں گریڈ 21 ، 22 میں کام کرنے والی 9 خواتین ہیں، ان تمام گروپ کے افسران کی ترقیاں میرٹ پر ہوتی ہیں، خواتین کو ترجیح دینے کی کوئی پالیسی زیر غور نہیں ہیں۔

اوپر