اہم خبریں


چوہدری نثار کھل کر سامنے آگئے،دھماکہ خیز اعلان

اسلام آباد (این این آئی) سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ وزیر اعظم گھر کی صفائی ضرور کریں انہیں کس نے روکا ہے ؟ اس بیانیتے سے پاکستان کا دنیا میں تماشہ نہ بنایا جائے ٗ میری بات پر شک ہے تو خواجہ آصف کے بیان پر بھارتی میڈیا کے تبصروں کا جائزہ لیا جائے ٗپاکستان کے اندر بھی مسائل ہیں ٗحکومت عملی اقدامات اٹھائے ۔

منگل کو پنجاب ہاؤس میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا یہ واضح مؤقف ہے کہ ہمارے اندر جو بھی کوتاہیاں یا کمزوریاں ہیں اس کا علاج ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کے اندر جو ہندو انتہاء پسند اور دہشت گرد تنظیمیں بڑی ڈھٹائی سے اپنے مکروہ عزائم میں کمربستہ ہیں، کبھی ہندوستان کی حکومت یا سیاستدانوں میں سے کسی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے، وہاں تو معزز لوگوں کے منہ کالے کئے جاتے ہیں، غیر ملکی مہمانوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور مسلمانوں اور اقلیتوں کو بیدردی سے صرف گائے کی بے حرمتی کے شک پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں دن کے اجالے میں درجنوں دہشت گردی کے کیمپ امریکہ کے کیمروں کے نیچے پنپ رہے ہیں اور پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤس کلیننگ پر کسی کو اعتراض نہیں، حکومت کو عملی کام پر توجہ دینی چاہئے، ہمیں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہئے جن سے پاکستان دشمن عناصر کا بیانیہ مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سالوں میں جتنی ہاؤس کلیننگ ہوئی ہے اس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی مگر اس کے باوجود بہت سے کام اور بھی کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ وزیراعظم گھر کی صفائی ضرور کریں انہیں کس نے روکا ہے لیکن اس بیانیے سے پاکستان کا دنیا میں تماشا نہ بنائیں۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ گھر کی صفائی جیسے بیانات سے دشمن کے بیانیہ کو تقویت ملتی ہے، ایسے بیانات سے گریز کریں جس سے دشمن طاقتوں کاپاکستان مخالف بیانیہ مضبوط ہو۔چوہدری نثار نے کہا کہ حکومتی ذمے دار مسئلے کو بیانات کا حصہ بناتے ہیں تو دشمن کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے، میری بات پر شک ہے تو خواجہ آصف کے بیان پر بھارتی میڈیا کے تبصروں کا جائزہ لیا جائے۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ پاکستان کے اندر بھی مسائل ہیں لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ عملی اقدامات کرے۔

اوپر