زیرو پوائنٹ


گالف کے ویٹی کن میں

اور یوں ہم آخر میں سینٹ اینڈریوز پہنچ گئے۔سینٹ اینڈریوز گالف کا ویٹی کن سٹی ہے‘ امراء کے اس کھیل نے اس شہر میں جنم لیا تھا‘ دنیا کا پہلا باقاعدہ گالف کورس‘ گالف کی پہلی سٹک (گالف کی زبان میں سٹک کو کلب کہتے ہیں)‘ گالف کی ابتدائی گیندیں‘ گالف کے اصول اور گالف کی ابتدائی وردی نے اس شہر میں جنم لیا تھا‘ یہ شہر سکاٹ لینڈ کے مشرقی ساحل پر واقع ہے‘ یہ پندرہویں صدی میں دور کا دیس اور غیر معروف علاقہ

تھا‘ یہ می فی ریاست کا حصہ تھا‘ شہر کے باہر ایک ویران جگہ تھی‘ یہ جگہ دریا اور سمندر کا نقطہ اتصال تھی‘ دریا ذرا سا لہرا کر سمندر میں گرتا تھا اور سمندر شرماکر ذرا سا دور ہٹ جاتا تھا اور اس لہرانے اور شرمانے کے مقام پر ایک ویرانہ سا بن جاتا تھا‘ سمندر کی قربت اور دریا کی نفرت اس ویرانے کو آباد نہیں ہونے دے رہی تھی چنانچہ وہاں مکان بن سکتے تھے اور نہ ہی کھیتی باڑی ہو سکتی تھی‘ وہاں درخت بھی نہیں اگتے تھے‘ اس ویرانے میں صرف چار چیزیں تھیں‘ ریتلی زمین‘ سخت گھاس‘ جھاڑیاں اور ہزاروں کی تعداد میں خرگوش‘ سینٹ اینڈریوز کے خرگوشوں نے جھاڑیوں کے سائے میں بل بنا رکھے تھے‘ وہ ایک سوراخ میں داخل ہوتے تھے اور زمین کے اندر ہی اندر دور نکل جاتے تھے‘ شہر کے لوگوں نے اس جگہ کو دو کاموں کیلئے وقف کر رکھا تھا‘ خواتین کپڑے دھونے کے بعد سوکھنے کیلئے جھاڑیوں پر بچھا دیتی تھیں اور نوجوان چرواہے بھیڑیں چرانے کیلئے یہاں آ جاتے تھے اور بس۔ چرواہے اس ویرانے میں بور ہوتے تھے‘ ان کے پاس کرنے کیلئے کچھ نہیں ہوتا تھا‘ بھیڑیں خود بخود چرتی رہتی تھیں‘ وہ اس مقام سے دائیں بائیں نہیں ہو سکتی تھیں‘ کیوں؟ کیونکہ میدان کی ایک سائیڈ پر شہر تھا‘ دوسری سائیڈ پر سمندر تھا اور اس سے جڑ کر آگے بہتا ہوا دریا تھا چنانچہ بھیڑوں کے پاس اس ویران‘ خشک اور بور جگہ پر چرنے کے سوا کوئی آپشن

نہیں تھا‘ نوجوان چرواہے وہاں اپنی بھیڑیں چھوڑتے تھے اور آپس میں گپ شپ شر وع کر دیتے تھے‘ علاقہ ٹھنڈا تھا لہٰذا وہاں کبڈی جیسے کھیلوں کی گنجائش تھی اور نہ فٹ بال اور ہاکی جیسے کھیلوں کی لہٰذا نوجوانوں کے پاس گپ شپ کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا‘ وہ وہاں برسوں گپ شپ کے سیشن کرتے رہے لیکن پھر ایک دن انہوں نے اس ویران‘ بور اور ناقابل برداشت میدان کو پوری دنیا کیلئے قابل توجہ بنا دیا‘ چرواہوں نے بھیڑیں پالنے والی چھڑی سے گول پتھروں کو ضربیں لگانی شروع کیں اور وہ انہیں خرگوشوں کے بلوں میں پھینکنے لگے‘

یہ ”حرکت“ پہلی بار کس نے کی اور کیوں کی؟ تاریخ اس سوال پر خاموش ہے تاہم تاریخ یہ گواہی ضرور دیتی ہے سینٹ اینڈریوز کے نوجوان چرواہے دنیا کی اس مہنگی سپورٹس کے موجد تھے‘ وہ نوجوان اپنی ٹیڑھی اور بدصورت چھڑیوں سے پتھروں کو خرگوشوں کے بلوں میں دھکیلتے رہے اور گالف ایجاد ہوتی رہی‘ نوجوان چرواہوں نے بعد ازاں بلوں کے گرد دائرے کھینچے‘ جھاڑیوں اور ٹبوں کی حدود طے کیں اور یوں دنیا کا پہلا گالف کورس تیار ہو گیا‘ یہ لوگ اونچی نیچی زمین (ٹوئے ٹبے) کو لنک کہتے تھے یوں یہ لنک پوری دنیا کے گالف کورسز کا حصہ بن گئے‘

یہ اپنے میدان کو کورس کہتے تھے یوں گالف کا میدان پوری دنیا میں کورس ہو گیا‘ یہ اپنی چھڑی کو کلب کہتے تھے یوں گالف کی سٹک پوری دنیا میں کلب ہو گئی‘ یہ لوگ پتھروں کو شاٹ لگاتے تھے تو ان کی چھڑیاں ٹوٹ جاتی تھیں‘ انہوں نے چھڑیوں کے ساتھ لوہے کے ”ہک“ لگانا شروع کر دیئے‘ یہ ہک بعد ازاں دنیا بھر میں گالف سٹکس (کلبس) کا حصہ بن گئے‘ دنیا کے پہلے گالف کورس کے درمیان سے ندی گزری تھی‘ یہ ندی آج بھی موجود ہے‘

چرواہوں نے ساڑھے سات سو سال پہلے بھیڑوں کو ندی پار کرانے کیلئے وہاں پتھروں کا پل بنایا تھا‘ یہ پل بھی آج تک وہاں موجود ہے‘ یہ پل سالکن (Swilcan) برج کہلاتا ہے‘ آج پوری دنیا میں گالف کورسز کے درمیان ندی بھی بنائی جاتی ہے اور اس ندی پر سالکن برج بھی بنایا جاتا ہے اور سینٹ اینڈریوز کے نوجوانوں نے ایک بلند ٹیلے کو ہموار کر کے اسے لاؤنج کا نام دے دیا‘ یہ لاؤنج بھی آج پوری دنیا میں بنایا جاتا ہے۔سینٹ اینڈریوز کے نوجوان چرواہے یہ عجیب و غریب کھیل کھیلتے رہے‘

یہ چھڑیوں سے پتھر خرگوشوں کے بلوں میں دھکیلتے رہے اور گالف کے اصول اور ضابطے ترتیب پاتے رہے یہاں تک کہ 1423ء میں گالف کو باقاعدہ کھیل کا درجہ مل گیا جس کے بعد سینٹ اینڈریوز اس کھیل کی جنم بھومی بھی بن گیا اور انڈسٹری بھی۔ قصبے کے لوہاروں اور ترکھانوں نے گالف کی سٹکس بنانا شروع کر دیں‘ یہ لکڑی کی گیندیں بھی بنانے لگے‘ گالف کے ایک کھلاڑی ایلن رابرٹسن  نے 1858ء میں مرغی کے پروں اور لکڑی کے ساتھ جدید ترین گیند بنا لی‘

قصبے کے زیادہ تر لوگ بھی گالف کھیلنے لگے‘ گالف کے ٹورنامنٹس بھی شروع ہو گئے‘ کھیل دوسرے قصبوں میں بھی پھیلنے لگا یوں یہ آہستہ آہستہ سکاٹ لینڈ کا قومی کھیل بن گیا‘ سکاٹ لینڈ کا ہر نوجوان گالف کا ماہر ہونے لگا‘ بادشاہ کو خبر ہوئی تو اسے محسوس ہوا سکاٹ لینڈ کی نوجوان نسل خراب ہو جائے گی اور یہ فوج میں بھرتی ہونے کی بجائے گالف کھیلتے رہیں گے‘ اس زمانے میں مائیں جنگوں اور فوجوں کیلئے بچے پیدا کرتی تھیں‘ ہر نر بچہ بادشاہ کی امانت ہوتا تھا‘

بادشاہ اسے فوج میں شامل کرتا تھا اور وہ اپنی جان دے کر بادشاہ کے اقبال کی حفاظت کرتا تھا‘ گالف بادشاہ کے اقبال کے راستے میں رکاوٹ بن رہی تھی لہٰذا بادشاہ نے گالف پر پابندی لگا دی‘ پابندی کے بعد سینٹ اینڈریوز کا میدان بند کر دیا گیا اور گالف کی انڈسٹری سے منسلک لوگوں کی دکانوں پر تالے ڈال دیئے گئے‘ یہ بندش تین بادشاہوں کے دور تک جاری رہی یہاں تک کہ چارلس اول کی حکومت آ گئی‘ وہ گالف کا متوالہ تھا‘ اس نے خود بھی گالف کھیلنا شروع کر دی اور عوام کو بھی اجازت دے دی یوں سینٹ اینڈریوز ایک بار پھر آباد ہو گیا‘

یہ کھیل سکاٹ لینڈ سے انگلینڈ اور انگلینڈ سے فرانس گیا اور وہاں سے پورے یورپ میں پھیل گیا‘ سکاٹ لینڈ برطانیہ کا پوٹھوہار تھا‘ برٹش آرمی کے دو تہائی جوان سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھتے تھے‘ یہ جوان تین علتوں کا شکار تھے‘ وسکی‘ گالف اور بیگ پائپ باجا چنانچہ برٹش آرمی جہاں جہاں جاتی رہی یہ تینوں علتیں وہاں پہنچتی رہیں‘ سکاٹش وسکی کی فیکٹری کو بروری کہتے ہیں‘ یہ جہاں گئے وہاں وسکی کی فیکٹری ضرور لگی اور اس کا نام بروری بھی رکھا گیا‘

راولپنڈی میں شراب کی فیکٹری مری بروری بھی سکاٹ لینڈ کی یادگار ہے‘ سکاٹش فوجی جہاں گئے وہاں ملٹری بینڈ بھی بنا اور اس بینڈ میں بیگ پائپ بھی شامل ہوا‘ بیگ پائپ سکاٹ لینڈ کا قومی باجا ہے‘ یہ مشک نما ہوتا ہے‘ اسے بجانے والے رنگین کپڑے پہنتے ہیں‘ یہ مشک میں ہوا بھرتے ہیں اور یوں بیگ پائپ سے باریک سریلی آواز نکلتی ہے‘ یہ سکاٹش بیگ پائپ اور رنگین وردی آج بھی ہمارے فوجی بینڈ کا حصہ ہے اور یہ لوگ جہاں گئے اس ملک کی فوج میں گالف کا کھیل بھی ضرور متعارف ہوا‘

ہماری فوج میں بھی آج تک گالف کی روایت موجود ہے‘ ملک کی ہر چھاؤنی میں گالف کورس بھی ہیں اور سینئر آفیسرز گالف بھی کھیلتے ہیں‘ پاکستان میں یہ کھیل برٹش آرمی کی سکاٹش یونٹس کی یادگار ہے اور یہ یادگار شاید صدیوں تک قائم رہے۔میں 24 اگست 2017ء کو سینٹ اینڈریوز پہنچا‘ موسم بہت شاندار تھا‘ گالف کا قبلہ اول دھوپ میں چمک رہا تھا‘ راجہ عابد اور عمران چودھری میرے ساتھ تھے‘ یہ دونوں نوجوان ایڈنبرا میں کام کرتے ہیں‘ راجہ عابد ہر فون مولا ہیں‘

صحافی بھی ہیں اور سیاستدان بھی‘ یہ جہلم سے تعلق رکھتے ہیں‘ مخلص اور متحرک انسان ہیں جبکہ عمران چودھری عارف والا کے رہنے والے ہیں‘ یہ یہاں ہارڈ ویئر کا کاروبار کرتے ہیں‘ میری ان دونوں سے ایڈنبرا میں ملاقات ہوئی اور یہ دو دن کیلئے میرے ہمسفر بن گئے‘ ہم پہلے دن سکاٹ لینڈ کے آخری بڑے شہر انورنس  گئے‘ وہاں سے فورٹ ولیم آئے اور پھر دوسرے دن وہاں سے سینٹ اینڈریوز آ گئے‘ سینٹ اینڈریوز میں دنیا کا پہلا گالف کورس آج بھی موجود ہے‘

شہر کی انتظامیہ نے اس کے گرد چھ مزید کورس بنا دیئے ہیں لیکن پہلے کورس کا وجود اور عزت چھ سو سال بعد بھی جوں کی توں موجود ہے‘ چھ سو سال قدیم جھاڑیاں‘ لنکس اور ندی بھی اسی طرح موجود ہے اور سالکن برج کا وجود بھی قائم ہے‘ ہم نے گالف کورس کا ٹور لیا‘ خاتون گائیڈ گالف اور گالف کورس کے راز بتاتی چلی گئی اور ہم سر دھنتے رہے‘ گالف کے کھلاڑی دنیا بھر سے یہاں آتے ہیں‘ گالف کھیلتے ہیں اور ان نامعلوم کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس کھیل کی بنیاد رکھی‘

میدان کی ایک سائیڈ پر قدیم ہوٹل اور گالف کی پرانی دکانیں ہیں جبکہ دوسری سائیڈ پر گالف میوزیم ہے‘ گالف میوزیم میں پرانی سٹکس‘ پرانے گیند‘ پرانی تصویریں‘ دنیا کے بڑے چیمپیئنز اور گالف سے متعلق دوسری ابتدائی اشیاء رکھی ہیں‘ سینٹ اینڈریوز کے گالف کورسز کی حالت شروع میں دگرگوں ہوتی تھی لیکن شہر کی حالت بدلنے کے ساتھ ساتھ گالف کورسز کا ناک نقشہ بھی تبدیل ہو گیا‘ یہ شہر پرنس ولیم اور ان کی اہلیہ کیتھرین کے حوالے سے بھی مشہور ہے‘

ولیم سینٹ اینڈریوز میں پڑھتے تھے‘ یہ اسی شہر میں کیتھرین سے ملے‘ اپنا دل ہارے اور ان سے شادی کر لی‘ یہ دونوں پہلی مرتبہ جس ریستوران میں ملے تھے وہ ریستوران بھی سیاحوں کیلئے ”زیارت گاہ“ بن چکا ہے۔ہم تینوں نے باری باری سالکن برج پر کھڑے ہو کر تصویریں بنوائیں‘ سینٹ اینڈریوز اور گالف کے پہلے کورس کو سلام کیا اور آگے روانہ ہو گئے‘ سینٹ اینڈریوز کی شام ہمارے پیچھے سانسیں لے رہی تھی‘ اس میں سمندر کا نمکین پانی اور گالف کی شاٹس گھل رہی تھیں اور سکاٹ لینڈ کے جادو میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔

اوپر