اسلام

کھجور کی گٹھلی پر موجودلکیر پر چڑھی جھلی کو ’’قطمیر ‘‘کہتے ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس جھلی کا مالک کسے بتایا ہے؟

انسانیت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اورجیسے جیسے زمین پر انسانوں کی تعداد بڑھتی گئی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کیلئے انبیائے کرام کے ساتھ اپنی ہدایت بھی اتاریں، مختلف صحیفوں، آسمانی کتابوں کے ذریعے وحی کا سلسلہ چلتا رہا ہے اور یہ سلسلہ قرآن حکیم کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔ یعنی قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام انسانیت کیلئے قیامت تک مقرر کر دیا گیا ہے۔

حضور اکرمﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور قرآن حکیم کے بعد کوئی اور ہدایت کی کتاب نہیں آنے والی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم نے دنیا کے ہر مسئلے کا حل بتاتے ہوئے انسانوں کو اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین کا مالک بنایا اور اسے اپنا زمین پر خلیفہ مقرر کیا اور ساتھ ہی ہدایت فرمائی کہ میرے احکامات پر عمل کرو کیونکہ میں ہی کائنات کا مالک و مختار ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کو گناہ عظیم قرار دیا اور کئی قوموں کو شرک پر تباہ و برباد کر دیا۔ ان میں عاد و ثمو کا ذکر نہ صرف تاریخ کی کتابوں میں درج ہے بلکہ ان کے حالات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شرک کرنے پر کس قدر بھیانک عذاب سے دوچار کیا۔آپ نے کھجور تو کھائی ہی ہوگی ،کھجور کے اندر سے ایک گھٹلی نکلتی ہے اس گھٹلی میں ایک لکیر سی ہوتی ہے، اس لکیر پر ایک باریک سا چھلکا ہوتا ہے،اس چھلکے کو عربی میں “قطمیر” کہتے ہین، جن لوگوں کو اللہ کے سوا حاجت روا سمجھ کر پکارا جاتا ہے، اللہ پاک فرماتا ہے وہ اس چھلکے کے بھی مالک نہیں۔اس کائنات کے خالق اپنی طاقت اور تصرف کا ذکر قرآن کریم میں کرتے ہوئے فرماتے ہیںوَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ“ (الفاطر : 13)ترجمہ:”جنہیں تم اس کے سوا پکار رہـے ہـو وه تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔

“یعنی اللہ تعالیٰ نے اس جھوٹے خدائوں کی اوقات بتلاتے ہوئے انسانوں کو سیدھے راستے اور اپنی عبادت کی تلقین کی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو فرمایاالا الذین امنو و عملو الصٰلحٰت وتواصو باالحق و تواصو بالصبر۔ ترجمہ:سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے اور (معاشرے میں) ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے اور (تبلیغِ حق کے نتیجے میں پیش آمدہ مصائب و آلام میں)

باہم صبر کی تاکید کرتے رہے،(سورۃ العصر، آیت نمبر ۳)۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ میری عبادت کرو اور باقی سب کام چھوڑ دو ، بلکہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اچھے کاموں کی دوسروں کو تلقین بھی کرو اور معاشرے کی فلاح کیلئے کام کرو اور مشکلات و آلام میں ایک دوسرے کو باہم ـصبر کی تاکید کرو۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ سورۃ الانعام کی آیت نمبر 99میں انسان کو

اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتلاتے ہوئے ایمان والوں کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۗ انْظُرُوا إِلَىٰ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمْ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ترجمہ:اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا تو ہم

نے اس سے ہر اگنے والی چیز نکالی۔ تو ہم نے اس سے نکالی سبزی جس میں سے دانے نکالتے ہیں ، ایک دوسرے پر چـڑھے ہوئے اور کھجور کے گابھے سے پاس پاس گچھے اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی بات میں الگ اس کا پھل دیکھو جب پھلے اور اس کا پکنا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کیلئے ۔(سورہ الانعام، آیت نمبر ۹۹)

ایک دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ أفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَی السَّمَاء فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ وَالْأرْضَ مَدَدْنَاهَا وَألْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ تَبْصِرَةً وَذِكْرَی لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ۔ترجمہ:تو کیا انہوں نے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ، ہم نے اسے کیسا بنایا اور سنوارا اوراس میں کہیں رخنہ نہیں اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں لنگر ڈالے اور اس میں ہر بارونق جوڑا اگایا ،

سوجھ اور سمجھ ہر رجوع والے بندے کیلئے (سورہ ق۔آیت نمبر۶تا۸ ) ۔يا اللہ ہم سب کے دلوں میں ہدایت ڈال دیں(آمین)

اوپر