انٹرنیشنل


ترکی،ایران،عراق اورشامی حکومتوں کو کردتحریکوں سے شدید خطرات لاحق ہیں،رپورٹ

بغداد(این این آئی)کرد قوم اپنی جداگانہ زبان اور ثقافت کی حامل ہے لیکن اس کے پاس کوئی ملک نہیں ہے۔ ان کی مجموعی تعداد پچیس سے پینتیس ملین کے درمیان بنتی ہے۔ کئی ملکوں میں ان کی وطن کے حصول کی تحریکوں کو جبر کے ساتھ دبا دیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں آئندہ پیر کو آزادی کے لئے ریفرنڈم ہو رہا ہے۔ اس ریفرنڈم کے مثبت نتیجے کی صورت میں کرد قوم کو فوری طور

پر آزادی حاصل نہیں ہو گی بلکہ اْسے بغداد حکومت کے ساتھ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا مذاکراتی عمل شروع کرنا ہو گا جو کئی برسوں پر محیط ہو سکتا ہے۔اس ریفرنڈم پر ترکی کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اْس نے ریفرنڈم کے تصور کو قطعاً پسند نہیں کیا ہے۔ ترکی کو کردوں کی علیحدگی پسندی کی ایک مضبوط تحریک کا سامنا ہے۔ اسی طرح شام میں بھی کرد مسلح باغیوں کو امریکی حمایت حاصل ہے اور ان کے عسکری گروپ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کو جہادی تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جاری بھرپور عسکری کارروائیوں میں امریکی فضائی تعاون بھی حاصل ہے۔ ترکی کو اس صورت حال پر بھی تشویش ہے۔کرد بنیادی طور پر پہاڑی علاقوں کے مکین تصور کیے جاتے ہیں اور یہ تقریباً نصف ملین مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔ کئی مقامات پر ان کی ا?بادی کا تناسب 100 فیصد کے قریب ہے۔

اوپر