28 اگست 2017ء کو نیویارک میں حبیب بنک پر 225 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا ٗ پارلیمانی سیکرٹری خزانہ

بزنس

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ 28 اگست 2017ء کو نیویارک میں حبیب بنک پر 225 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا ٗ بنک نے امریکی کے قوانین کی پابندی نہیں کی جس سے پاکستان کی سبکی ہوئی ٗحبیب بنک نجی ادارہ ہے ٗہم صرف اسے ریگولیٹ کرتے ہیں ٗسٹیٹ بنک نے کمیٹی قائم کردی ہے ٗجلد ہی رپورٹ مرتب کرکے پیش کی جائے گی۔منگل کو قومی اسمبلی میں شیخ صلاح الدین کے یونائیٹڈ بنک اور حبیب

بنک لمیٹڈ کی غیر ملکی شاخیں بند کرنے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا محمد افضل خان نے بتایا کہ حبیب بنک 1978ء سے نیو یارک میں قائم ہے۔ ڈالر میں ملک کی تمام ٹرانزیکشنز نیویارک سے ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل ریزرو بورڈ آف نیویارک اور نیویارک فنانشل سروسز نے 2015ء میں انٹی منی لانڈرنگ کے حوالے سے بنک کے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا۔ 28 اگست 2017ء کو حبیب بنک پر 225 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا۔ بنک نے اپنا آپریشن بند کردیا۔ پاکستان کی دنیا بھر میں 142 برانچیں کام کر رہی ہیں۔ پہلے بھی دنیا کے بنکوں پر جرمانے عائد کئے جاتے رہے ہیں۔ بنک نے وہاں کے قوانین کی پابندی نہیں کی۔ اس میں پاکستان کی سبکی ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں ڈالر کی ٹرانزیکشن کی چار جگہ مانیٹرنگ ہوتی ہے۔ حبیب بنک نے سول جرمانہ قبول کرلیا ہے اور برانچ بند کردی ہے۔ توجہ مبذول نوٹس پر شیخ صلاح الدین ‘ ڈاکٹر فوزیہ حمید‘ کشور زہرا‘ سید وسیم حسین اور عبدالوسیم کے سوالات کے جواب میں رانا محمد افضل خان نے کہا کہ حبیب بنک نجی ادارہ ہے۔ ہم صرف اسے ریگولیٹ کرتے ہیں۔ امریکہ نے ایم ایس بی سی‘ سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنکوں سمیت حبیب بنک کو بھی جرمانے عائد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حبیب بنک ایک مستحکم بنک ہے۔ یونائیٹڈ بنک کو اپنا نظام بہتر بنانے کے لئے

مہلت دی گئی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ حبیب بنک کی برانچ بند نہیں ہوئی ہے اور وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنا آپریشن تیز کریں۔ سٹیٹ بنک نے کمیٹی قائم کردی ہے۔ جلد ہی رپورٹ مرتب کرکے پیش کی جائے گی۔ پاکستانی بنکوں کو وہاں کے جدید ترین نظام کو حاصل کرنا چاہیے۔ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کی کارکردگی کی وجہ سے جرمانہ 625 ملین ڈالر سے کم ہو کر

225 ملین ڈالر طے پایا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حبیب بنک پر منی لانڈرنگ کا کوئی الزام نہیں بلکہ کمپلائنس اور رپورٹنگ کے ایشوز تھے۔ اس بناء پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ حبیب بنک ایک پرائیویٹ ادارہ ہے۔ آپریشن بند کرنے کا فیصلہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ہے ٗوہی فیصلہ کریں گے کہ وہاں پر کوئی اور برانچ کھولنی ہے یا نہیں۔ حکومت دنیا کے دیگر ممالک میں کام کرنے والے دیگر بنکوں کی ریگولیشن بہتر بنائے گی۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک کی سربراہی میں قائم کمیٹی اس معاملے کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر